17نیوز دیجیٹل اسلام آباد: آئینی وقانونی ماہرین نے سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے کیس میں پشاور ہائی کورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کودرست قرار دیاہے اور کہاہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں کا حقدار قرار دے کرآئین وقانون کی حکمرانی کوتسلیم کیاگیاہے۔
قانونی ماہرین زیڈاے بھٹہ ایڈووکیٹ ،اسلم ایڈووکیٹ ،کشورنورین ایڈوکیٹ نے میڈیاسے گفتگومیں کہاکہ سپریم کورٹ نے بہترین فیصلہ دیاہے۔زیڈاے بھٹہ ایڈدوکیٹ نے کہاکہ عدالت نے ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھ سیکھاہے اس لیے یہ بہت ہی بیلنس فیصلہ ہے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کاحق تھاجواسے دے دی گئی ہیں ،اس فیصلے میں سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اس میں ججز نے پی ٹی آئی کے وجود کو تسلیم کیا اور ان کو ان کی سیٹیں دے دیں۔
انھوں نے کہاکہ ججزکواختیارہے کہ وہ جوآئین وقانون کے مطابق سمجھیں اسی طرح سے اس کی تشریح کریں فیصلے سے اختلاف کرنے والے ججزبھی کسی ناکسی نکتے پرہی اختلاف کرتے ہیں۔اسلم ایڈووکیٹ نے کہاکہ عوام کواس کاحق مل گیاہے عدالت بھی عوام میں سرخروہوئی ہے اس لحاظ سے دیکھاجائے توبہت اچھافیصلہ ہے عوام کی اکثریت سے جب کسی جماعت کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کا پوری طاقت سے ایوان میں آنا ضروری ہے، یہ نکتہ ہمارے پارلیمانی نظام کا مرکز ہے، اس وجہ سے عدالت نے سنی اتحاد کو نہیں، پی ٹی آئی کو یہ نشستیں فراہم کی ہیں، یہ بھی آئینی، قانونی تقاضوں کے مطابق ہے۔
کشورنورین ایڈووکیٹ نے کہاکہ سپریم کورٹ کے تمام ججزانتہائی محترم ہیں سب نے اپنی اپنی رائے کااظہار کیاہے اور جوبھی ریمارکس سامنے آتے رہے ہیں ان میں بھی اہم ترین نکات پر تفصیلات جاننے کے لیے سوالات کیے جاتے رہے ہیں ان سوالات کامقصدبھی آئینی وقانونی شقوں کوبہترطورپر سمجھنااور اس پر تشریح کرناہے ،عوام کومبارک ہوکہ اسے اس کاحق مل گیاہے۔